منگلورو 7/جنوری (ایس او نیوز) انڈین میڈیکل ایسو سی ایشن کی آواز پر منگلورو میں انڈین میڈیکل اسوسی ایشن ( آئی ایم اے) کے علاوہ ڈاکٹروں اور میڈیکل اسٹاف کی دیگر انجمنوں کے اشتراک سے کینر ارکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔
موصولہ رپورٹ کے مطابق احتجاجی ریالی آئی ایم اے ہاوس سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر تک نکالی گئی۔ جس میں آئی ایم اے کی سربراہی میں AMC, COS, FDA, API, Hospital Association, FOGSI , KGMO جیسی تنظیموں کے علاوہ بہت سارے اسپتالوں کے نرسنگ اور دیگر میڈیکل اسٹاف نے کالی پٹیاں باندھ کرحصہ لیا۔ اس موقع پرمیڈیا سے بات کرتے ہوئے انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر راگھویندرا بھٹ نے کہا کہ کاروار ایم پی اننت کمار ہیگڈے نے اپنی والدہ کے علاج میں تاخیر کا الزام لگاکر سرسی کے اسپتال میں دو ڈاکٹروں اور ایک اسٹاف پر حملہ کردیاتھا ۔یہ ایک غیر اخلاقی حرکت ہے اور رکن پارلیمان نے قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے۔جسے کسی طور قبول نہیں کیا جاسکتا۔ سرکار نےMedicare Service Institutions Act, 2009کے تحت میڈیکل پیشے سے وابستہ افراد کے ساتھ تشدد اورمالی نقصان کو روکنے کے لئے قوانین وضع کیے ہیں مگر خلاف ورزی کرنے والوں پراسے مشکل ہی سے لاگو کیا جاتا ہے۔لہٰذا اس قسم کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور اس سے میڈیکل پیشے سے وابستہ افراد دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہاتو اس کا نقصان عام آدمی کو بھگتنا پڑے گا کیونکہ ڈاکٹرس ایمرجنسی معاملوں کو اپنے ہاتھ میں لینے سے گھبرائیں گے۔
احتجاجی مظاہرے کے بعد ڈی سی کو میمورنڈم پیش کیاگیا۔جس کے مطابق یہ مظاہرہ سرسی کے علاوہ ہاسن میں ہو نے والے ڈاکٹرپر حملے اور ایم ایل اے ونئے کلکرنی کی طرف سے ڈاکٹر دیوراج رائچور پر ہوئے حملے کے خلاف بھی تھا۔اس پرامن احتجاجی مظاہرے میں سینئر ڈاکٹرس جیسے شانتا رام شیٹی، آئی جی بھٹ،جی کے بھٹ،کے آر کامت، سدھا کر بھنڈاری،انیّا کلال، یوسف کمبلے،پرکاش ہری چندرا، محمد اسماعیل اور جناردھن آئیتھال وغیرہ بھی شریک رہے۔